ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی کے دوران کوآپریٹیو بینکوں میں جمع نوٹوں پر نابارڈ کا بیان گمراہ کن 

نوٹ بندی کے دوران کوآپریٹیو بینکوں میں جمع نوٹوں پر نابارڈ کا بیان گمراہ کن 

Tue, 26 Jun 2018 12:13:04    S.O. News Service

نئی دہلی،26جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)قومی زراعتی و دیہی ترقیاتی بینک (نابارڈ) نے گزشتہ جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ مہاراشٹر کے ضلع کوآپریٹیو سنٹرل بینک (ڈی سی سی بی)میں نوٹ بندی کے بعد گجرات اور کیرالہ کے ڈی سی سی بی کے مقابلے زیادہ پرانے نوٹ جمع ہوئے۔ نابارڈ کا یہ بیان گمراہی بھرا معلوم ہو رہا ہے۔ ممبئی کے آر ٹی آئی کارکن منورنجن ایس رائے کے ذریعہ اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کی گئی جانکاری کے مطابق مہاراشٹر کے کل 370 ڈی سی سی بی میں سے 30 بینکوں میں 3985 کروڑ روپے قیمت کے پرانے نوٹ جمع ہوئے۔ اس کے مطابق ایک بینک میں اوسطاً 132.83 کروڑ روپے کے پرانے نوٹ جمع ہوئے۔ لیکن پڑوسی ریاست گجرات کے 18 ڈی سی سی بی میں کل 3640 کروڑ روپے کے پرانے نوٹ جمع ہوئے۔ اس طرح گجرات کے ہر ڈی سی سی بی میں اوسطاً 202 کروڑ روپے جمع ہوئے۔ریاست کے ڈی سی سی بی میں کل کتنی رقم جمع ہوئی، اس کی جگہ یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ ریاست کے ایک ڈی سی سی بی میں اوسطاً کتنی رقم جمع ہوئی۔ نابارڈ کے ذریعہ قبل میں جاری آر ٹی آئی کے دستاویز کے مطابق اوسط رقم کے معاملے میں گجرات سرفہرست ہے اور اس کے بعد کیرالہ، مہاراشٹر، کرناٹک اور تمل ناڈو کا نام آتا ہے۔ گجرات کے بعد کیرالہ کے 13 ڈی سی سی بی میں 2094 کروڑ روپے کے پرانے نوٹ جمع ہوئے اور فی ڈی سی بی اوسط رقم 161 کروڑ روپے ہے۔ کرناٹک کے 20 ڈی سی سی بی میں کل 1849 کروڑ روپے کے پرانے نوٹ جمع ہوئے جہاں فی بینک اوسط رقم 92 کروڑ روپے ہے۔ تمل ناڈو کے 22 ڈی سی سی بی میں کل 1514 کروڑ روپے کے پرانے نوٹ جمع ہوئے، جہاں فی بینک اوسط رقم 69 کروڑ روپے ہے۔آر ٹی آئی سے ملی جانکاری کی بنیاد پر جمعرات کو ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ احمد آباد ضلع کو آپریٹیو بینک (اے ڈی سی بی) میں 745.59 کروڑ روپے کے پرانے نوٹ صرف پانچ دنوں میں جمع ہوئے تھے جو ملک بھر میں کسی ایک ڈی سی سی بی کے ذریعہ حاصل جمع رقم میں سب سے زیادہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بی جے پی صدر امت شاہ اس بینک کے ڈائریکٹروں میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ 8 نومبر 2016 کو اس وقت چلن میں رہے 500 روپے اور 1000 روپے کے نوٹ پر پابندی عائد کیے جانے کے محض پانچ دنوں کے اندر بینک نے یہ نوٹ قبول کیے تھے، کیونکہ نوٹ بندی کے پانچ دنوں بعد ڈی سی سی بی کو پرانے نوٹ لینے سے منع کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے یہ فیصلہ اس لیے لیا تھا تاکہ کالے دھن کو سفید نہ بنایا جا سکے۔ گزشتہ جمعہ کو نابارڈ نے اے ڈی سی بی کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ اے ڈی سی بی کے محض 9.37 فیصد یا 1.6 لاکھ اکاونٹ ہولڈروں نے کل رقم جمع کی تھی اور ہر اکاونٹ کی اوسط جمع رقم 46795 روپے ہوتی ہے۔ منورنجن رائے اور کچھ دیگر لوگوں نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ نابارڈ احمد آباد ڈی سی سی بی کے ترجمان کے طور پر کیوں کام کر رہا ہے۔ رائے نے کہا اس طرح تو ہندوستانی ریزرو بینک آر بی آئی بھی پنجاب نیشنل بینک یا آئی سی آئی سی آئی بینک جیسے بڑے بینکوں میں جاری قابل اعتراض سرگرمیوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے مجبور ہو سکتا ہے۔ ملک کے لیے یہ کوئی اچھا رجحان نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ رائے کے ذریعہ طلب کی گئی جانکاری نابارڈ نے ہی مہیا کروائی تھی۔کانگریس نے گزشتہ ہفتہ کے روز وزیر مالیات پیوش گویل پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے نابارڈ کو جمعہ کو بیان جاری کرنے پر دباو ڈالا جس کا مقصد نوٹ بندی گھوٹالے میں بی جے پی صدر کا دفاع کرنا تھا۔ کانگریس نے حکومت سے معاملے کی پوری جانچ کروانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف بی جے پی کی معاون پارٹی شیو سینا نے بھی ہفتہ کے روز حکومت کی تنقید کی اور معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا۔شیو سینا نے پارٹی کے ترجمان سامنا اور دوپہر کا سامنا کے اداریہ میں سوال اٹھایا کہ قرض فراہم کرنے میں دھوکہ دہی کرنے والے کتنے بینک کے چیئرمین کو جیل بھیجا گیا؟ شیو سینا نے پوچھا کہ ایک ہی بینک (اے ڈی سی بی) میں کیسے اتنی بڑی رقم جمع ہوئی۔ پارٹی نے اسے سنگین مسئلہ بتاتے ہوئے معاملے کی گہرائی سے جانچ کی ضرورت بتائی۔ حیرانی کی بات ہے کہ ڈی سی سی بی میں کثیر مقدار میں پرانے نوٹ جمع ہوئے جب کہ 32 سرفہرست ریاستی کو آپریٹیو بینکوں میں بہت کم پرانے نوٹ جمع ہوئے۔نابارڈ کے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر ایس سی بی میں کل 1128.44 کروڑ روپے، تمل ناڈو کے ایس سی بی میں 382 کروڑ روپے، دہلی کے ایس سی بی میں 375.28 کروڑ روپے، کرناٹک کے ایس سی بی میں 371.22 کروڑ روپے، گوا کے ایس سی بی میں 344.28 کروڑ روپے، کیرالہ کے ایس سی بی میں 349.63 کروڑ روپے، میگھالیہ کے ایس سی بی میں 335.15 کروڑ روپے، آسام کے ایس سی بی میں 301.47 کروڑ روپے اور گجرات کے ایس سی بی میں 110.85 کروڑ روپے (قبل میں غلطی سے 1.10 کروڑ روپے کا تذکرہ کیا گیا) کے پرانے نوٹ جمع ہوئے۔


Share: